ایک ہمدرد چور

ایک دن ایک شخص کی گاڑی صبح اس کے گھر کے باہر سے چوری ہوگئی۔ لیکن شام ڈھلتے ہی وہی گاڑی صاف ستھری حالت میں مکمل پالش کے ساتھ اسی جگہ کھڑی پائی گئی جہاں سے چوری ہوئی تھی۔ گاڑی کے مالک نے جب گاڑی کے اندر دیکھا تو سیٹ پر اس ایک خط پڑا ہوا ملا، جس میں لکھا ہوا تھا کہ،

میں تہہِ دل سے معذرت خواہ ہوں کہ مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا۔ میری بیوی کی ڈیلیوری کے باعث حالت تشویش ناک تھی۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیسے اسے ہسپتال پہنچاؤں۔ بس اس وجہ سے میں نے چوری جیسا گھناؤنا قدم اٹھایا مگر میں اپنے کیئے پر شرمندہ ہوں اور امید کرتا ہوں آپ مجھے میری اس حرکت پر معاف کر دیں گے۔

میری طرف سے آپ اور آپ کی فیملی کے لیے ایک عدد تحفہ۔ آج رات کے شو کی ٹکٹیں اور ساتھ میں کچھ کھانے پینے کی چیزیں بھی قبول کیجیے۔ یہ سب اس مدد کے بدلے میں ہے جو آپ کی گاڑی کے ذریعے سے ہوئی۔

گاڑی کا مالک یہ سب پڑھ کر مسکرایا اور سوچنے لگا کہ بغیر محنت گاڑی بھی دھلی دھلائی مل گئی اور مفت میں رات کے شو کی ٹکٹیں بھی۔ اس نے سوچا کہ اس موقع کا پورا پورا فائدہ اٹھایا جائے۔

رات کو جب فیملی فلم دیکھ کر واپس آئی تو ان کے گھر ڈکیتی کی واردات کی جاچکی تھی۔ پورا گھر سامان سے خالی تھا اور وہیں پر ایک خط پڑا ہوا تھا جس میں لکھا تھا،

امید ہے فلم پسند آئی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں