وفاقی کابینہ کا پہلا اجلاس، نواز شریف اور مریم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے پر اتفاق

نیوزڈیسک | اسلام آباد

پاکستان کی وفاقی کابینہ کا پہلا اجلاس آج وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت ہوا جس میں اہم معاملات پر فیصلے کیئے گئے. وفاقی کابینہ کے پہلے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اراکین سے خطاب بھی کیا اور انہیں 100 روزہ پلان پر عملدرآمد کرانے کے لیئے سخت ہدایات جاری کردئیں. انہوں نے تمام وزراء کو انکی وزارتوں میں مکمل اختیار دیتے ہوئے کہا کہ تمام وزراء ہنگامی صورتحال کی کیفیت میں کام کریں اور نتائج دیں.وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ حکومت کے معاملات روائتی انداز میں نہیں چلائے جائیں گے. انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے لوٹی رقم لانے کے لیے کابینہ اراکین کو پوری قوت کے ساتھ کام کرنا ہو گا، ہر وزیر اپنی وزارت کے زریعے شہریوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کا مقصد پورا کرے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے اپنا کردار کرے۔

وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس میڈیا میں کہا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں گے جب کہ حسن نواز، حسین نواز اور اسحاق ڈار قومی مجرم ہیں، ان کو بھی واپس پاکستان لایا جائے گا۔ اس حوالے سے ریڈ وارنٹ جاری کیے جاچکے ہیں جب کہ وزارت قانون اور داخلہ کو ریڈ وارنٹ پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ہدایت کی جا چکی ہے۔

فواد چوہدری نے کابینہ کے دیگر فیصلوں کے حوالے سے بھی میڈیا کے نمائندگان کو آگاہ کیا اور بتایا کہ تمام کابینہ اراکین سے بیرون ملک علاج کی خدمات واپس لے لی گئی ہیں. اب سرکاری خرچ پر کوئی بھی رکن کابینہ باہر علاج نہیں کرا سکے گا. انہوں‌نے وزیراعظم اور وزرائ کے بیرون ملک دوروں کے حوالے سے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے وزرا اور بیوروکریٹس کے بیرون ملک دوروں کو محدود کرنے کا حکم دے دیا ہے اور خود وزیراعظم اگلے 3 مہینے تک کوئی دورہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ وزیراعظم ہاؤس کی اضافی گاڑیوں کی نیلامی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی نیلامی کی منظوری دیدی گئی ہے اور اس سلسلے میں جلد اعلان بھی کردیا جائے گا۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے مزید کہا کہ جو پراپرٹیزحکومت کے استعمال میں نہیں ہیں ان کوعوام کے استعمال میں لایا جائے گا، اور اس ضمن میں 2 کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو اس حوالے سے سرکاری عمارتوں کا جائزہ لیں گی اور رپورٹ کریں گی کہ ان عمارتوں کو کس طرح سے عوام کی فلاح کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ان عمارتوں میں رہنے والے نچلے درجے کے ملازمین کو نوکریوں سے نہیں نکالا جائے گا۔

بیرون ملک سے پیسہ واپس لانے کیلئے ٹاسک فورس تشکیل کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز پاکستان کے عوام کی ملکیت ہیں. اس حوالے سے وزارت قانون کو ہدایت دی گئی ہے کہ ان جائیدادوں کے حوالے سے برطانوی حکومت سے رابطہ کیا جائے اور یہ پیسے پاکستان لائے جائیں. انہوں نے نیدرلینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے کے حوالے سے کہا کہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو او آئی سی میں خط لکھنے کی ہدایت کی گئی ہے.

سابق صدر پرویز مشرف کے حوالے سے انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ کابینہ کے اجلاس میں سابق صدر پرویز مشرف کے معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں