گوہر مقصود | سانحہ ہائڈرو پراجیکٹ آزاد پتن | ازقلم ثاقب گوہر سدوزئی

ثاقب گوہر سدوزئی | پتن شیر خان

اکتوبر کا مہینہ جب آتا ہے بہت سے پرانے زخم تازہ ہو جاتے ہیں بہت سے گزرے لمحات دل اداس کر جاتے ہیں اور اکتوبر سے یہ سلسلہ ایسے جڑا ہے کہ چند برسوں بعد پھر سے کوئی اپنا کوئی بہت عزیز یوں چلا جاتا ہے کہ نیا زخم جگہ بنا لیتا ہے۔بے شک ہمارا ایمان ہے کہ یہ سب میرے اللہ کے حکم سے ہوتا ہے سو اس کی رضا پہ راضی ہیں۔اور یہی خیال یہی بول ہمارا اول بھی ہے اور ازل بھی یہی ہے کیوں کہ اس پر ایمان ہے۔ وہ اس پر اجر عظیم کا وعدہ کرتا ہے۔ لیکن اکتوبر کا مہینہ جہاں دکھوں کا باعث ہے وہاں باعث فرحت ہے کہ جو اس مہنے میں گیا وہ اکثر شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوا وہ جرنیل اعظم شہید ہوں یا مولانا عبداللہ شہید یا شہدا زلزلہ یا پھر اس اکتوبر کا شہید جمشید بھائی، اللہ کے ہاں شہید زندہ ہے۔اللہ ہم سب کو شہادت کی موت عطا فرمائے آمین۔

20 اکتوبر کا سورج طلوع ہوا جمشید بھائی روزمرہ کے کاموں سے فارغ ہو کر اسی مسکراتے چہرہ اور اہنے مخصوص انداز کے ساتھ والد کو بائے بائے کر کے ہائڈرو پراجیکٹ پر کام کے لیے چلا گیا۔ والد کو نہیں مرلوم تھا کہ یہ مسکرارا چہرہ آخری بار دیکھ رہا ہوں۔

تین بچیوں کا باپ جوان سالہ جمشید صابر انتہائی ملنسار بااخلاق اور انتہائی باہمت اور بہادر انسان تھے۔کسی کا بھی کام ہو جمشید بھائی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار ہوتے تھے۔ آخری ملاقات دس محرم کے پروگرام کی ترتیب دیتے ہوئے ہوئی اگھٹے کھانا کھایا اور 12 ربیع الاول کے پروگرام کی مشاورت کی اور بہت خوش اور مطمین تھے جب میں نے بتایا کہ سب کچھ تیار ہے ۔کرکٹ کا گراونڈ ہو یا کوئی پروگرام جمشید بھائی ایک جاندار کردار رہے ہمشہ اور ہر ایک سے ان کا تعلق اتنا گہرا ہوتا تھا کہ سب بے لوث محبت کرتے تھے۔

ان کی زندگی میں بہت سے بدلاو آتے رہے بہت زیادہ جذباتی اور شرارتی دور سے لے کر اب ان کا انتہائی ٹھہراو والا دور سب ہی لاجوب رہا بہت کم وقت تھا ےبھی تو کھل کر جیتا رہا ۔ اپن زندگی سے بڑھ کر کام کر گیا۔

جیا تو شیر کی زندگی کسی بھی حال میں جمشید بھائی کو ڈر کر یا خوفزدہ سا نہیں دیکھا ۔اکثر کہا کرتے تھے کہ میں نہیں علاقہ چھوڑ کر جاتا یہی کچھ کروں گا اور اتنا دور چلے گے کہ اب مڑ آنے کا خواب بھی دیکھنا ممکن نہیں۔

جیا شیر کی زندگی اور جب گیا تو بھی ایک داستان رقم کر گیا۔

فیض نے کہا تھا کہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے تو واقعی جس شان سے وہ گیا وہ شان بہت ہی کم لوگوں کا مقدر ہوتی ہے۔

جب دریا پر پہنچے تو وہاں کا منظر بہت اور ہی طرح کا تھا پہلے سنا کہ جو پتھر پر نظر آ رہا ہے وہ جمشید بھائی ہے لیکن پاس پہنچ کر یہ آس ختم ہو چکی تھی لیکن جو بات وہاں معلوم ہوئی کہ ایثار و قربانی کی وہ داستان جمشید بھائی رقم کر گیا ہے کہ پوری قوم فخر کر سکتی ہے جو ایک سچے مومن کی پہچان ہوتی ہے۔

جب دریا میں کشتی الٹی ہوئی تو اس میں چار بندے سوار تھے دو کے ہاتھ میں وہاں لگا رسہ آ گیا یہ ان کی خوش قسمتی تھی اور اللہ پاک کی رحمت اور احسان کہ وہ رسہ پکڑنے میں کامیاب ہو گے ۔جمشید بھائی بہت اچھے تیراک تھے وہاں موجود مزدوروں نے بتایا کہ وہ کنارے کی طرف تیر کر آ رہے تھے کہ پیچھے چوتھے بندے نے بچاو بچاو کا کہا وہ تیرنا نہیں جانتا تھا اور وہ پنجاب سے تعلق رکھتا تھا کوئی خونی یا علاقائی رشتہ نہ ہونے کے باوجود جمشید بھائی اس کو بچانے کے لیے دریائے جہلم کی خونی لہروں سے ٹکرا گیا ۔اس بچنے والے بندے کا ہاتھ میں ہاتھ لیے لہروں سے مقابلہ کرتا کہیں سو میٹر تک تیرا لیکن دریا کی تیز روی کے سامنے بے بس ہو گیا جو ڈوب رہا تھا وہ بچ گیا جو بچانے گیا وہ ان موجوں کے بیچ گم ہو گیا اس کے بعد سے جمشید بھائی لاپتہ ہیں۔

جمشید بھائی نے تو اپنی جان لگائی انسانیت کو بچانے کے لیے ایک عظیم قربانی دی ہے اس پر حکومت وقت کو ان کے لیے تمغہ کا اعلان کرنا چاہیے اور ان کے خاندان کو آرمی کے شہدا کے برابر گنا جانا چاہیے کیوں کہ اس انسان نے بھی عظیم مقصد کے لیے جان دی ہے۔

یہ سب تو جمشید بھائی کا کارنامہ تھا ۔اس نے واقعہ ہونے کے بعد حالات کی وجہ سے یہ کیا شیروں کی طرح شہید ہوا لیکن اس واقعہ کے جو محرکات ہیں جو مجرم ہیں ان کو قرار سزا ملنی چاہیے۔ چاہے اس میں ملکی لوگ ہوں یا غیر ملکی ہوں۔

چائنز کو اس معاملے میں ملوث کرنا چاہیے کیوں کہ اس کے اصل ذمہ دار وہی ہیں ان کو سب چیزوں کو دیکھ کر کسی کمپنی کو ٹھیکہ دینا چاہیے تھا اور سب کمپنی کو جواب دہ ہونا چاہیے اور اپنی غلطی کا ازالہ سزا اور جرمانے کی صورت میں ادا کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ضلعی انتظامیہ بھی اتنی ہی سزاوار ہے کیوں ان کو اس سب کا نہیں پتا تھا کہ اس خونی دریا میں سیفٹی کے کچھ انتظامات نہیں اور وہ کام کر رہے ہیں۔ اور مقامی لوگ بھی کشتی میں سفر کرتے ہیں اس پر بھی ضلعی انتظامیہ کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ 

جمشید بھائی تو چلا گیا وہ اتنی بڑی قربانی دے گیا ہے کہ اس کے بعد سب اصلاحات ہونگی یقیناً ہونگی لیکن اس گھرانے کو بیٹا بھائی خاوند اور باپ نہیں مل سکے گا۔

اس سانحہ میں شہید ہونے والے جمشید بھائی کو سرکاری طور اعزاز سے نوزا جائے۔ کیونکہ اس نے انسانیت کے بچاو میں جان دی ہے۔

چائنز کمپنی کو جرمانہ ہونا چاہیے وہ لوحقین کی امداد کریں اور ازالہ کے طور پر ہر طرح کی سہولیات دیں۔

سب کمپنی ivcc کو بھی جرمانے کی مد میں لوحقین کو مالی امداد کرنا چاہیے اور انسانی جسم کی قیمت نہیں لیکن ممکن حد تک اس کا ازالہ کرنا چاہیے اور ضلعی انتظامیہ کو بھی اسی طرح ازالہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ سب اس میں ملوث ہیں۔ اور یہ سب کچھ ہوگا۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایسا نہ ہو اور کام شروع کر دیا جائے۔

اللہ پاک ہمارے ہیرو ہمارے ہر دل عزیز بھائی دوست کی انسانیت کے واسطہ جان کی قربانی قبول فرمائے۔ جس طرح دنیا میں مسکراتا رہا ہے میرا یقین ہے کہ اسی انداز میں جنت میں بھی ٹہلتا ہو گا۔

ان کے گھر والوں کو صبر جمیل اجر عظیم۔ عطا فرمائے اور اللہ پاک ہم سب کو اہنی رضا والی زندگی اور شہادت کی موت نصیب فرمائے۔ آمین