ن لیگی وزیر کا سرکاری اراضی پر قبضہ، سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرادی گئی

نیوزڈیسک | میرپور

آزاد کشمیر حکومت کے وزیر امور منگلا ڈیم و میرپور ڈیویلپمینٹ اتھارٹی چوہدری سعید کا منگلا جھیل کے کنارے قائم ون واٹر فرنٹ ہاؤس کی تعمیر میں ایک کنال اور آٹھ مرلے سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ، بعد از پیمائش، ثابت ہوا جس کی رپورٹ ڈپٹی کمشنر سردار عدنان خورشید نے سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر میں جمع کرادی۔

اطلاعات کے مطابق جوڈیشل ریسٹ ہاؤس میرپور سے ملحقہ وزیر امور منگلا ڈیم و میرپور ڈیویلپمینٹ اتھارٹی چوہدری سعید کا قائم کردہ ون واٹر فرنٹ ہاؤس میں سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ کی نشاندہی کہ گئی تھی جس پر آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سردار عدنان خورشید کو رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر سردار عدنان خورشید کی انکوائری مکمل ہونے پر آزاد کشمیر حکومت کے وزیر چوہدری سعید کا سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ سامنے آیا ہے۔ جسکی رپورٹ ڈپٹی کمشنر سردار عدنان خورشید سپریم کورٹ میں جمع کرا چکے ہیں۔

دوسری جانب چوہدری سعید اور ان کے بھائی چوہدری محمد نعیم کا یہ موقف تھا کہ قبضہ انہوں نے نہیں بلکہ سپریم کورٹ جوڈیشل ریسٹ ہاؤس نے انکی ذاتی اراضی پر کیا ہوا ہے۔

ڈپٹی کمشنر سردار عدنان خورشید کا کہنا تھا کہ عدالت کا جو بھی حکم آئے گا اس پر سو فیصد عملدرآمد کرایا جائے گا۔