مستقبل کی جانب پیش قدمی کیلئے ہندوستان اور پاکستان کو مذاکرات کرنا ہوں گے | وزیرِاعظم پاکستان

نیوزڈیسک | اسلام آباد

وزیرِاعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے دیئے گئے افتتاحی خطاب پر سیاسی جماعتوں کی طرف سے کافی تنقید کی گئی تھی. کشمیر کے مختلف سیاسی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مسلئہ کشمیر پر بات نہ کر کے عمران خان صاحب نے کشمیریوں کے جزبات کو ٹھیس پہنچائی ہے. البتہ آج وزیرِاعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے کشمیر پر واضح موقف سامنے آگیا. وزیرِاعظم عمران خان نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ کے زریعے لکھا کہ،

میری تقریب حلف برداری کیلئے پاکستان آنے پر میں سدھو کا مشکور ہوں۔ وہ امن کا پیامبر بن کرآیا جسے پاکستانی عوام نے بے پناہ محبت اور پیار دیا۔ بھارت میں جو لوگ سدھو کیخلاف تلواریں سونتے ہوئے ہیں وہ حقیقت میں برصغیر کے امن پر حملہ آور ہیں جس کے بغیر ہمارے لوگوں کی ترقی ممکن نہیں۔

انہوں نے پاکستان اور ہندوستان کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے مزید لکھا کہ،

مستقبل کی جانب پیش قدمی کیلئے ہندوستان اور پاکستان کو مذاکرات کرنا ہوں گے اور کمشیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کا حل نکالناہوگا۔ غربت مٹانے اور برصغیر کے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کا آسان ترین نسخہ ہے کہ بات چیت کے ذریعے تنازعات حل کئے جائیں اور باہم تجارت کا آغاز کیا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کی طرف سے معاملات کو حل کرنے کے لیئے مذاکرات کی پیش کش کی گئی ہے. انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں اور دونوں ممالک کسی قسم کا ایڈونچر نہیں کرسکتے اس لیئے مذاکرات ہی واحد حل ہے. وزیرِاعظم عمران خان کا آج کا بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت مسلئہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے.