وزیرِاعظم عمران خان کا افتتاحی خطاب

نیوزڈیسک | اسلام آباد
وزیرِاعظم عمران خان صاحب نے آج افتتاحی خطاب کیا. ان کا خطاب پی ٹی وی پر براہِ راست دیکھایا گیا. وزیرِاعظم عمران خان صاحب نے خطاب میں وزیرِاعظم عمران خان صاحب نے “نئے پاکستان” کا وہ نظریہ پیش کیا جس کا وعدہ انہوں نے اپنے تمام حامیوں سے کیا تھا. خطاب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے کیا گیا اور پھر قومی ترانہ چلایا گیا.

خطاب کا آغاز وزیرِاعظم عمران خان صاحب نے اپنے کارکنان اور حامیوں کا شکریہ ادا کرنے سے کیا. انہوں نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جو ان کی 22 سالہ جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے رہے. انہوں نے کہا کہ، “میں آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو میرے مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑے رہے. جن پر لوگ ہنسا کرتے تھے کہ یہ کس ٹانگا پارٹی کیساتھ ہیں. میں آپ کی وجہ سے آج یہاں پہنچا ہوں.”

انہوں نے کہا کہ وہ سیاست میں کیریئر بنانے کے لیئے نہیں بلکہ قائداعظم محمد علی جناح اور ڈاکٹر علامہ اقبال کے ویژن پر پاکستان کو گامزن کرنے کے لیئے آئے تھے. وزیرِاعظم پاکستان نے پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال اور پاکستان کو درپیش مختلف مسائل اور چلینجزسے قوم کو آگاہ کیا. سب سے پہلے انہوں نے بیرونی قرضوں اور ان کا پاکستان معیشت پر بوجھ کا ذکر کیا.

انہوں نے کہا کہ، “پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی ہمیں اس طرح کے مشکل اقتصادی حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا. ہمارے قرضوں کا بوجھ 28 ٹریلین روپ پر جا پہنچا ہے. ہم اتنے مقروض پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں تھے جتنے مقروض ہم پچھلے دس سالوں میں ہو گئے ہیں. ہمارے ملکی قرضوں پر اتنا سود چڑھ چکا ہے کہ ہمیں اب اس سود کو اتارنے کے لیئے بھی بیرونی ممالک سے قرضہ لینا پڑتا ہے.”

انہوں نے مزید کہا کہ، “بد قسمتی سے ہم دنیا کہ ان پانچ ممالک میں شامل ہوتے ہیں جہاں پانچ سال سے کم عمر بچوں اور حاملہ خواتین کی شرح اموات سب سے زیادہ ہے کیونکہ لوگوں کے پاس پینے کے لیئے صاف پانی میسر نہیں ہے.”

پاکستان میں بچوں کی صحت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ، “پاکستان میں %45 بچے غزائی قلت کا شکار ہیں جسکی وجہ سے ان کی جسمانی اور ذہنی نشونما نہیں ہوسکتی. ان بچوں کو تو ہم آگے بڑھنے کا موقع ہی نہیں دے رہے. انکے والدین پر کیا گزرتی ہوگی جب وہ اپنے بچوں کو اس حالت میں دیکھتے ہوں گے. میں پچلھے کئی سالوں سے اس چیز کی نشاندہی کر رہا ہوں لیکن کسی نے میری بات پر توجہ نہیں دی.”

وزیرِاعظم عمران خان صاحب نے حکمراں طبقے کے رہن سہن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ، “وزیرِاعظم ہاؤس گیارہ سو کنال پر بنایا گیا ہے. وزیرِاعظم کے 524 ملازمیں ہیں. وزیرِاعظم، یعنی میری، 80 گاڑیاں اور 33 بلٹ پروف گاڑیاں ہیں. وزیرِاعظم کے پاس جہاز اور ہیلی کاپٹر بھی ہے اور ہمارے پاس بڑے بڑے گورنر ہاؤس ہونے کیساتھ دنیا کی ہر آسائیش ہے. یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک طرف تو ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں اپنی قوم پر لگانے کے لیئے اور دوسری طرف انگریزوں کی طرح رہ رہے ہیں؟ انگریزوں نے بڑے بڑے محلات اس لیئے بنائے تھے کیونکہ برصغیر کے لوگوں کو بتانا چاہتے تھے کہ تم ہمارے غلام ہو. ہم نے انگریزوں سے آزادی حاصل کرلی لیکن انہی کے شاہی طور طریقں کو اپنا لیا.”

انہوں نے پاکستان کے امیر طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ، “ہمیں اپنے دلوں میں رحم پیدا کرنے کی ضرورت ہے. ہمیں ان لوگوں کا سوچنے کی ضرورت ہے جو دن میں دو وقت کی روٹی تک نہیں کھا سکتے. ہمیں ان ڈھائی کروڑ بچوں کا سوچنے کی ضرورت ہے جو سکولوں سے باہر ہیں. ہمیں اپنی آبادی کا سوچنے کی ضرورت ہے. ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم کسطرح کلائمیٹ چینج کا مقابلہ کریں گے. اب وقت ہے کہ ہم اپنی قسمت بدلیں. اللہ تعالیٰ بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جو لوگ اپنی حالت خود نہ بدلنا چاہیں.”

پاکستان کو درپیش مسائل کا ذکر کرنے کے بعد وزیرِاعظم عمران خان صاحب نے ان تمام مسائل کے حل کے لیئے اپنے پانچ نکات پیش کیئے.

1. قانون کی بالا دستی
وزیرِاعظم عمران خان صاحب کہنا تھا سب سے پہلے قانون کی بالادستی پر کا کیا جایئگا. “قانون سب کے لیئے ایک جیسا ہوگا. جن قوموں نے ترقی کی ہے انہوں نے سب سے پہلے قانون کی بالادستی قائم کی. حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہوتے ہوئے عدالت میں پیش ہوئے ایک یہودی سے مقدمہ ہار گئے. حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نیا جوڑا پہنا تو ایک صحابی نے ان سے وضاحت طلب کی کہ ان کے پاس وہ جوڑا کہاں سے آیا تو انہوں نے ان صحابی کو پوری وضاحت پیش کی. یہ مدینہ کی ریاست کا نظام تھا جس کی بنیاد نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی.”

2. ادائیگیِ زکوٰۃ
وزیراعظم عمران خان صاحب نے کہا کہ، “دوسری چیز زکوٰۃ ہے. زکوٰۃ کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ میںجو میرے پاس ہے میں ان لوگوں پر خرچ کروں جومستحق ہیں. اسے ترقیاتی ٹیکس کہا جاتا ہے. جو غریبوں کو سبسڈی دینے کے لئے امیر دیتے ہیں. یہ اسکینڈنوین ممالک میں ہوتا ہے، جہاں صحت، اچھی تعلیم اور انصاف سب کے لئے موجود ہے اور معذور، یتیموں اور بیوواؤں کی سپورٹ کی جاتی ہے.”

3. احساس
وزیرِاعظم عمران خان صاحب نے تیرس اہم چیز احساس اور ہمدردی کو قرار دیا. انہوں نے کہا کہ، “مغرب میں جانوروں کا خیال اتنا رکھا جاتا ہے جتنا خیال ہمارے یہاں انسانوں کا نہیں رکھا جاتا. وہاں جانوروں کے حقوق ہیں انکے لیئے شیلٹرز ہیں. آپ کو کوئی جانور باہر سڑک پر بھوکا مرتا نظر نہیں آئیگا. یہ احساس ہم نے اپنے اندر لانا ہے.”

4. میرٹ
وزیرِاعظم عمران خان صاحب نے کہا کہ، “ہم میرٹ پر سب کام کریں گے. میرٹ کے بغیر کوئی کام نہیں کیا جا سکتا. حکمران کو صادق اور امین ہونا چاہیئے. اسے ذاتی مفاد کے لیئے اپنے عہدے کو استعمال نہیں کرنا چاہیئے. مغرب میں یہ قوانین موجود ہیں لیکن ہمارے ملک میں لوگ اقتدار میں آکر امیر ہوجاتے ہیں.”

5. تعلیم
وزیرِاعظم عمران خان صاحب نے تعلیم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ، ” رسول اللہ سلی اللہ علی وسلم نے تعلیم پر سب سے زیادہ زور دیا ہے. غزوہ بدر کے بعد انہوں نے فرمایا تھا کہ جو قیدی دس لوگوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دے گا اسے آزاد کردیا جائیگا. لیکن آج ہماری حالت دیکھیں. ہم اس لئے پیچھے رہ گئے ہیں کیونکہ ہم نے ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کیا.

اپنے نکات پیش کرنے کے بعد وزیرِاعظم عمران خان نے قوم کو یقین دہانی کرائی کے وہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل قوم کے ساتھ مل کرکریں گے. جس کے بعد انہوں نے تمام تر مسائل کے حل اور پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کے حوالے سے مستقبل میں کیئے جانے والے اقدامات پیش کیئے، جن کا خلاصہ درج ذیل پڑھا جاسکتا ہے.

اخراجات میں کمی |
وزیرِاعظم ہاؤس کے 524 ملازمیں میں سے صرف 2 رکے جایئں گے.
ملٹری سیکریٹری کے تین کمروں پر مشتمل گھر میں رہائش اختیار کیجائگی.
صرف 2 گاڑیاں رکھی جایئں گی. باقی کی بلٹ پروف گاڑیاں آکشن کیجائینگی.
ڈاکٹر عشرت حسین کی زیرِ صدارت کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو قومی سطح پر اخراجات میں کمی کرنے پر کام کرے گی.
سادگی اختیار کر کے پیسے نچلے طبقے پر خرچ کیئے جایئں گے.

قرضوں میں کمی اور ٹیکس اصلاحات |
بیرونی قرضوں کیبجائے اندرونِ ملک ریوینو جینریٹ کیا جائیگا.
ایف بی آر اور ایس ای سی پی دونوں اداروں میں اصلاحات کی جایئں گی.
برآمداد میں اضافہ کیا جائے گا.
ٹیکس کی ادایئگی کو یقینی بنایا جایئگا.
ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی جو ملک سے لوٹا ہوا پیسہ واپس لائے گی.
سرمایہ داری کے مواقع فراہم کیئے جائیں گے اور سرمایہ داروں کو درہیش مشکلات کے حل کے لیئے خاص سیل بنایا جائے گا.
چھوٹے کاروباروں کو درپیش مالی اور دیگر مشکلات کو ختم کیا جائیگا.

بیرونِ ملک پاکستانیوں کے نام پیغام |
اپنی رقم پاکستان کے بینکوں میں جمع کرائیں.
اپنے گھر والوں کو رقم بینکوں کے زریعے بھیجیں.
پاکستانی ایمبیسی کو بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ہر لحاظ سے مدد کرنے کی ۃدایت دی جائے گی.
بیرونِ ملک جیلوں میں قید پاکستانیوں کے مقدمات کے حوالے سے رپورٹ لی جائ گی.

کرپشن کا خاتمہ |
نیب کو تمام تر اختیارات دیئے جائیں گے.
خیبرپختونخواہ کی ظرز پر وسل بلور ایکٹ متاعرف کرایا جائیگا.
وزارتِ داخلہ اور ایف آئی اے کے زریعے کرپشن کا خاتمہ یقینی بنایا جائیگا.

عدالتی اصلاحات |
چیف جسٹس سے مل کر ایک سال کے اندر مقدمات کے فیصلوں پر کام کیا جائیگا.
غریبوں، مسکینوں اور یتیموں کو سپورٹ ہر قانونی لحاظ سے کیا جائیگا.

پولیس اصلاحات |
خیبرپختونخواہ کی ظرز پر پنجاب پولیس میں اصلاحات کی جائیں گی.
سابق آئی جی خیبرپختونخواہ ناصر درانی کو پنجاب پولیس میں اصلاحات کی ذمہ داری دی جائے گی.

تعلیم |
سرکاری سکولز کا معیار بہترین بنایا جائے گا.
مدرسوں کے بچوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی جائے گی.

صحت |
سرکاری ہسپتالوں کا نظام درست کیا جائیگا.
ایمرجنسی ہیلتھ کارڈ مالیتی 550,000 روپے تمام تر پاکستانیوں کو دیا جائیگا.

تعمیرِ ڈیم |
بھاشا ڈیم کی تعمیر ہر قیمت پر کی جائے گی.
کسانوں کو کم پانی پر کاشتکاری کرنے کے نئے طریقے سکھائے جائیں گے.
کراچی کے پانی کے مسلہ کا حل نکالا جائیگا.

سول سروس اصلاحات |
بھرتیاں اور پروموشن میرٹ پرکی جائیں گی.
سیاسی مداخلت ختم کی جائے گی.
سرکاری ملازمین پر عام آدمی کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا یقینی اور لازمی بنایا جائے گا.
لوگوں کے کام جلدی کرنے والے اداروں کو بونس اور تاخیر کرنے والوں کو سزا دی جائے گی.

بلدیاتی نظام |
لوکل گورنمنٹ کو تمام تر اختیارات دیئے جائیں گے.
ناظم کا براہِ راست الیکشن کرایا جائے گا.
ترقیاتی فنڈز لوکل گورنمنٹ کو دیئے جائیں گے.

نوجوانوں کے لیئے پروگرام |
کھیل کے گراؤنڈ بنائے جائیں گے.
ہاؤسنگ پروجیکٹس شروع کیئے جائیں گے جن سے نوکریاں پیدا ہونگی.
نوجوانوں کو بغیر سود کے قرضے دیئے جائیں گے.

ماحولیاتی مسائل |
آبادی کے کنٹرول پر توجہ دی جائے گی.
درخت لگائے جائیں گے.

غریبوں سے ہمدردی |
بیواؤں، غریبوں، معزوروں اور مسکینوں کی دیکھ بھال حکومت کرے گی.
قوم سے بیواؤں، غریبوں، معزوروں اور مسکینوں کے لیئے ہمدردی کی اپیل.

ریاستِ مدینہ جیسی ریاست |
سادگی اختیار کی جائے گی تاکہ اخراجات کم ہو سکیں.
وزیرِاعظم پاکستان کوئی کاروبار نہ کریں گے.

وزیرِاعظم عمران خان صاحب نے اپنے خطاب کے آخر میں قوم سے اپیل کی کہ وہ ان کا ساتھ دے. انہوں نے کہا کہ، “مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے. جب آپ کے گھر چوری ہو رہی ہو تو آپ پولیس کے آنے کا انتظار نہیں کرتے بلکہ خود چور کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کرتے ہیں. اسی طرح آپ میری ان قوم کے چوروں کو پکڑنے میں مدد کریں. یہ سوشل میڈیا کا دور ہے. ان پر نظر رکھیں اور رپورٹ کریں. ہمیں ایک ٹیم کی طرح کام کرنا ہے. آپ اپنی دولت بچانے کے لیئے میرا ساتھ دیں. ہمیں بحیثیت قوم آگے جانا ہے. مجھے یقین ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب پاکستان میں کوئی زکوٰۃ لینے والا نہیں رہے گا. بلکہ ہم دوسرے ممالک کو قرضہ دیا کریں گے اور امداد کیا کریں گے. یہ میرا خواب ہے، میں ایسا پاکستان دیکھنا چاہتا ہوں. پاکستان زندہ باد.”