جسٹس ابراہیم ضیاء اور جسٹس راجہ سعید اکرم خان کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کی تیاریاں مکمل

نیوزڈیسک | اسلام آباد

چیئرمین کونسل آف سدوزئی جیورسٹس، سینیئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان، سردار عبدالمجید خان اور سدوزئی قبیلہ کے چیف ڈاکٹر سردار محمد کلیم خان کے درمیان گزشتہ روز راولپنڈی میں ملاقات ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق ملاقات میں باہم مشاورت سے فیصلہ کیا گیا کہ ہائی کورٹ آزاد کشمیر کے ججز کی تقرریوں سے متعلق جو تنازعہ کھڑا ہے، اس تنازعہ میں سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے دو ججز کا کردار کافی تشویشناک ہے، جس کو مدِنظر رکھتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر ابراہیم ضیاء اور جسٹس راجہ سعید اکرم خان کے خلاف کشمیر کونسل میں ریفرنس فائل کیئے جانے پر اتفاق ہوا۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ چونکہ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ کے دونوں سینیئر ججز آزاد کشمیر کی حکومت کے زیر عصر ہیں اس لیئے ان دونوں ججز، چیف جسٹس آزاد کشمیر چوہدری ابراہیم ضیاء اور جسٹس راجہ سعید اکرم خان، کے خلاف ریفرنس براہِ راست چیئرمین کشمیر کونسل، وزیراعظم پاکستان عمران خان، کے پاس دائر کیا جائے گا۔

کونسل آف سدوزئی جیورسٹس جس کے ممبران میں سابق جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان سردار محمد اسلم خان، سابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن پاکستان سردار یاسین آزاد خان، سابق چیف پراسیکیوٹر نیب آزاد کشمیر ایس اے محمود سدوزئی، سینیئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان سردار شوکت حیات خان اور بیرسٹر سردار اسحاق بلوچ خان جیسے ماہرین قانون کی جانب سے دائر کی جانے والی کوئی بھی آئینی درخواست آزاد کشمیر کی عدلیہ میں مستقل ریفارمز کے لیئے ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔

قانونی اور آئینی ماہرین کے مطابق آزاد کشمیر کا عبوری آئین سپریم کورٹ آزاد کشمیر کو کسی بھی معاملے پر ازخود نوٹس لینے کا اختیار نہیں دیتا۔ قانونی ماہرین کے مطابق میں چیف جسٹس آزاد کشمیر ابراہیم ضیاء اور جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے آئین کی بدترین خلافورزی کی ہے جس پر ان دونوں ججوں کو نااہل قرار دے کر سپریم کورٹ آزاد کشمیر سے نکالا جاسکتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق آزاد کشمیر کے عبوری آئین کے دفعہ 30 اے، جس کے تحت قانون ساز اسمبلی میں کسی بھی جج، جو اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہو، کے کردار بارے بحث نہ کرنے پر لگائی جانے والی پابندی پر صرف اسمبلی کا اسپیکر ہی نوٹس لے سکتا ہے یا کوئی کاروائی کرسکتا ہے۔ جس میں خلافورزی کرنے والے ممبر کو جرمانہ یا کوئی دیگر سزا دینے کا حق صرف اسپیکر اسمبلی کو حاصل ہے۔

قانونی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے عبوری آئین کے دفعہ 34 کے تحت قانون ساز اسمبلی کے ممبران کی اسمبلی میں کی گئی کسی بھی بات کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا اور تمام ممبران اسمبلی کو مکمل استثناء حاصل ہے۔ جس سے اس بات کی مزید وضاحت ہوتی ہے کہ قانون ساز اسمبلی میں کی جانے والی تمام تر کاروائی کے حوالےسے اسپیکر اسمبلی کو مکمل اور غیر شراکت دارانہ حق اور اختیار حاصل ہے۔

وکلاء کی جانب سے سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں دائر کی جانے والی آئینی درخواستوں کے حوالے سے آئینی اور قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ ان درخواستوں کی کوئی قانونی اور آئینی حیثیت نہ ہے کیونکہ آئینی درخواست صرف ان معاملات میں دائر کی جاسکتی ہے جس میں عوام الناس کے حقوق سے متعلق کوئی اہم نکتہ پایا جاتا ہو۔ چونکہ توہین عدالت کا تعلق عوام الناس کے حقوق سے نہ ہے اس لیئے یہ تمام تر درخواستیں غیر آئینی و غیر قانونی ہیں جو قابل سماعت نہ ہیں۔