باغیِ پونچھ سردار شمس خان شہید

از قلم راجہ حبیب جالب

مجھے پونچھ کی تاریخ پر لکھی گئی متعدد کتب کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا ہے ۔ مجھے کشمیر کے مشہور مصنفین کے ساتھ نشست کرنے کا بھی کئی بار موقع ملا اور میں اکثر کے تو میں نے انٹرویوز بھی لیئے ہیں ۔ مجھے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری نئی نسل کو تاریخ پونچھ اور جموں و کشمیر کے حوالے سے کشمیری مصنفین انتہائی غلط اور جھوٹی معلومات پہنچا اور پڑھا رہے ہیں ۔ مجھے سب سے پہلے اس بات کا اندازہ تب ہوا جب میں نے ایک کتاب میں پڑھا کہ سردار محمد عبدالقیوم خان صاحب مجاہد اول ہیں۔ حالانکہ یہ بات تاریخی اعتبار سے انتہائی غلط ہے کیونکہ مجاہد اول کا خطاب پاکستان آرمی کی آزاد کشمیر رجمنٹ کی جانب سے صوبیدار اللہ دتہ خان صاحب مرحوم کو دیا گیا تھا ۔ لیکن افسوس کہ حکومتی وسائل اور قومی خزانے کو استعمال کرتے ہوئے، خالصتاً سیاسی پزیرائی اور قد آوری کے لیئے ،سابق صدر اور وزیراعظم آزاد کشمیر،سردار محمد عبدالقیوم خان صاحب ،کو مجاہد اول بنا دیا گیا ۔ جو کہ پونچھ اور جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک بدترین جھوٹ ہے ۔

کشمیری مصنفین نے ریاستی تاریخ کو بلا امتیاز مسخ کیا ۔ 1947 کی تحریک آزاد کشمیر کے ایک مجاہد راجہ شیر زمان خان شہید نے نیلا بٹ کے مقام پر جام شہادت نوش کیا ۔ جنہیں انکے ساتھی صوبیدار میجر راجہ علی اکبر خان نے انکی ہدایات کے مطابق انکی جائے شہادت، نیلا بٹ، پر ہی دفنا کر دشمنوں سے جنگ جاری رکھی ۔ وقت گزرتا گیا اور تاریخ کے صفحات سے راجہ شیر زمان خان شہید کا نام مٹایا جانے لگا ۔ میں نے ہمارے گاؤں سے تعلق رکھنے والے سابق ملٹری سیکریٹری وزیراعظم آزاد کشمیر مرحوم و مغفور جناب کرنل گل افسر صاحب سے راجہ شیر زمان خان شہید کی قبر کی نشاندھی کروانے کی گزارش کی اور اس پر تمام تر اخراجات از گرہ خود ادا کرنے کی پیشکش بھی کی ۔ کرنل صاحب نے بغیر حکومتی رہنمائی کے خود نیلا بٹ پر راجہ شیر زمان خان شہید کی قبر کی نشاندھی کروائی اور اس پر یادگار بنوائی ۔ لیکن صد افسوس کہ سردار قیوم صاحب، جنہیں اصل تاریخ کا علم بھی تھا اور جن کے پاس اختیار بھی تھا، انہوں نے اس معاملے میں نہ کوئی معاونت کی نہ ہی تاریخ کو بچانے کی کوئی کوشش ۔ انہوں نے تو مغالطہ نویسوں کی جانب سے نیلا بٹ پر لکھی گئی جھوٹی تاریخ کو نہ صرف کھلے دل سے سچ مان کر تسلیم کیا بلکہ نیلا بٹ کے مقام پر مبینہ طور پر پہلی گولی چلانے کا اعزاز بھی اپنے نام لکھ دیا ۔ پھر نام نہاد کشمیری مؤرخین نے قومی خزانے میں اپنا حصہ بنانے کے لیئے مختلف کتب لکھیں اور اس جھوٹ کو سرکاری پشت پناہی کے ساتھ اتنا زیادہ پھیلایا گیا کہ بدقسمتی سے آج ہر شخص اسے سچ سمجھ رہا ہے ۔

اب انہی غیر تعلیم یافتہ، قلم فروش اور متعصب مغالطہ نویسوں کی جانب سے دو مختلف ادوارکے دو مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے اشخاص کے دو مختلف واقعات کو جوڑ کر ایک نیا تاریخی جھوٹ بنایا اور پھیلایا جارہا ہے ۔ ایک واقعہ 1700ء کی ریاست پونچھ میں راٹھور خاندان کے دور حکومت کا ہے ۔ جبکہ دوسرا واقعہ 1837ء کی پونچھ جاگیر میں سکھ دور حکومت کا ہے ۔ اب یہ مغالطہ آرائی بھی صرف اور صرف سیاسی پذیرائی اور مقامی قد آوری کے لیئے ہی کی جا رہی ہے ۔ لیکن انکی بد قسمتی یہ ہے کہ تاریخ کے اوراق میں اصل تاریخ درج بھی ہے اور محفوظ بھی ۔ جسے قلم فروش مغالطہ نویس ہزارہاں کوششوں کے باوجود بھی چھپانے یا من مانی تشریح کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔

1700ء – ریاست پونچھ، راٹھور دور حکومت اور مقامی بغاوت
ریاست پونچھ شہنشاہ اکبر کی طرف سے راٹھور خاندان کے راجہ سراج الدین راٹھور کو عطا کی گئی تھی ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب شہنشاہ اکبرکشمیر جاتے وقت اپنے اہل و عیال کے ساتھ کہوٹہ کے مقام پررکے تو راجہ سراج الدین خان راٹھور نے انکی باکمال خدمت و مہمان نوازی کی ۔ شہنشاہ راجہ سراج الدین کی مہمان نوازی اور رکھ رکھاو سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے راٹھور صاحب کے خاندانی پس منظر کے بارے میں پوچھا ۔ جب انہیں علم ہوا کہ راجہ سراج الدین راٹھور خاندان سے ہیں تو انہوں نے راجہ سراج الدین کے خاندانی پس منظرکو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں پونچھ ریاست بطور جاگیر عطاکر دی ۔ چونکہ شہنشاہ اکبر کو کشمیر کے گردونواح کے علاقوں میں رہنمائی کی ضرورت تھی اس لیئے انہوں نے راجہ سراج الدین خان راٹھور جیسے بہادر، نڈر اور خاندانی شخص کو نامزد کیا جسکا خاندان کشمیر اور اسکے گردونواح کے علاقوں میں زبردست اثر و رسوخ اور طاقت رکھتا تھا ۔ راجہ سراج الدین خان راٹھور بطور راجہ پونچھ ایک طاقتور حکمران کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے پونچھ اور اسکے متصل علاقہ جات پر بھی اپنا حق حکمرانی جتایا اور لوہا منوایا ۔

1645ء میں راجہ سراج الدین خان راٹھور وفات پاگئے اور ریاست پونچھ کی حکمرانی کا تاج انکے فرزند راجہ فتح محمد خان راٹھور کے سر پر سجایا گیا ۔ راجہ فتح محمد خان راٹھور ایک مذہبی اور بہادر جنگجو حکمران تھے ۔ وہ اپنے والد کے دور حکمرانی سے ہی جنگیں لڑتے آرہے تھے ۔ جس کی بدولت انکے والد راجہ سراج الدین کو ابو الفتاح کا لقب بھی دیا گیا تھا ۔ انہوں نے وسعت ریاست پونچھ اور اپنے احکامات اور قانون کے نفاذ کے لیئے ریاست پونچھ کی اندرونی اور بیرونی طاقتوں سے متعدد جنگیں لڑیں اور ہمیشہ کامیابی حاصل کی ۔ راجہ فتح محمد خان راٹھور کے دور حکومت کا بیشتر حصہ جنگی حالات میں گزرا ۔ انہوں نے اپنی حیات میں ہی اپنے فرزند راجہ عبدالرزاق خان راٹھور کو با اختیار ولی عہد مقرر کر کے ریاست کے انتظامی امور انکے حوالے کر دیئے تھے اور خود صوبیداران کشمیرکی معاونت اور پونچھ کی اندرونی بغاوتوں کا مقابلہ کرتے رہے ۔

1700ء میں راجہ فتح محمد خان راٹھور کو دیگوار ملدیالاں کے ایک مقامی شخص جان محمد خان ملدیال عرف جانو ملدیال کی بغاوت کا علم ہوا ۔ جان محمد خان ملدیال، ملدیال برادری کے سرکردہ رہنما اور سرپنچ تھے، جنہیں انکی برادری کے لوگ نواب جان محمد خان ملدیال کے نام سے آج بھی یاد کرتے ہیں ۔ نواب جان محمد خان ملدیال ایک انصاف پسند اور دین دار آدمی ہونے کے ساتھ ساتھ امن و امان کے داعی بھی تھے ۔ لیکن انہیں اپنی برادری کی بھلائی کے لیئے راجہ فتح محمد خان راٹھور اور انکے فرزند راجہ عبدالرزاق راٹھور کے سخت طرز حکمرانی، بے جا ٹیکس اور خلاف قدرت قوانین سے اختلاف کرکے بغاوت کا اعلان کر نا پڑا ۔ انہوں نے اپنی برادری کے اکثریتی علاقوں ، بشمول حویلی و باغ، میں آپ راج حکومت قائم کی اور پونچھ ریاست سے علیحدگی کا اعلان کردیا ۔ جس کے بعد انہیں راجہ فتح محمد راٹھور سے جنگ کا سامنا کرنا پڑا ۔ نواب جان محمد خان ملدیال کا ساتھ چھتر ملدیالاں کے ایک جوان شمس الدین ملدیال نے بڑھ چڑھ کر دیا اور راجہ فتح محمد راٹھور کی فوج کا بھرپور انداز میں مقابلہ کیا ۔ نتیجتاً راجہ فتح محمد خان راٹھور کی فوج کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اسی جنگ کے نتیجہ میں جام شہادت نوش کر گئے ۔

نواب جان محمد خان ملدیال نے باغ اور حویلی کے ملدیال اکثریتی موضع جات پر مبنی اپنی ایک مستقل آپ راج حکومت قائم کرلی اور شمس الدین ملدیال کو اپنا ایک نائب مقرر کر لیا ۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد نواب جان محمد خان ملدیال اور راجہ عبدالرزاق خان راٹھور کے درمیان معاملات طے پاگئے اور نواب صاحب نے اپنے آپ راج علاقہ جات کو پونچھ ریاست کیساتھ واپس شامل کردیا ۔ نواب صاحب کا یہ فیصلہ شمس الدین ملدیال نے ماننے سے انکار کردیا اور ناراض ہو کر حویلی اور باغ میں اپنے اثرورسوخ والے چند علاقہ جات، بلخصوص چھتر ملدیالاں ، میں آپ راجی قائم کر لی اور یوں وہ اپنے علاقے میں راجہ شمس الدین ملدیال کے نام سے پکارے جانے لگے۔

1737 ء میں جب نواب جان محمد خان ملدیال انتقال کر گئے تو راجہ شمس الدین ملدیال نے دیگوار ملدیالاں پر قبضہ کر لیا اور نواب صاحب کی جگہ از خود برادری کے سرپنچ بن گئے ۔ 1747 ء میں راجہ عبدالرزاق خان راٹھور بھی وفات پاگئے ۔ انکی وفات کے بعد انکے وزیر لطیف اللہ خان ترکھان بزور بازو خود پونچھ کے راجہ بن گئے ۔ لطیف اللہ ترکھان کی زور آزمائی کی وجہ سے ریاست پونچھ کے ہر علاقہ میں مختلف افراد اور برادریوں نے گروہ بندی کر کے مختلف علاقہ جات پر قبضہ شروع کر کے چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنانا شروع کر دیں ۔ اس دور کو طواءف الملوکی کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ لطیف اللہ ترکھان سے تخت چھیننے کے لیئے صوبہ دار کشمیر کی جانب سے اسلام یار خان کشتواریہ کو بھیجا گیا جنہوں نے راٹھور خاندان کے راجہ بقاء محمد خان راٹھور کی مدد سے لطیف اللہ خان کو شکست دی اور ریاست پونچھ کا تخت سنبھالا۔

1748ء کو راجہ اسلام یار خان کشتواریہ نے پونچھ پر اپنی حکومت قائم کی اور گیارہ سال تک وہاں حکمرانی کی، لیکن وہ آپ راج حکومتوں کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہے ۔ اسی دوران راجہ شمس الدین ملدیال نے اپنی آپ راج حکومت کی توسیع کرنا شروع کی اور وہ پونچھ شہر کے گردونواح کے چند علاقہ جات پر قابض ہو کر خود ساختہ راجہ پونچھ بن گئے ۔ راجہ شمس الدین ملدیال نے نہ صرف پونچھ بلکہ سدھنوتی تک اپنی آپ راج حکومت کی توسیع کی کوشش کی ۔ لیکن سدھنوتی میں انکے ساتھیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھا کر شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ راجہ اسلام یار کشتواریہ کے پونچھ میں دور حکومت میں اسی طواءف الملوکی کے عرصے میں راجہ شمس الدین ملدیال نے اپنی آپ راج حکومت کی توسیع کی اور اسی دوران انکی موت واقع ہوئی ۔ راجہ شمس الدین ملدیال کی آپ راج دور حکومت کا مرکز انکی اپنی برادری کے اکثریتی علاقہ جات تھے جو پونچھ شہر کے ارد گرد پائے جاتے ہیں ۔

1837ء – سکھ دور حکومت، پونچھ جاگیر ، بغاوت اور سردار شمس خان سدھن (شہید)
1830ء میں ڈوگرہ برادران کی مشاورت پر مہاراجہ رنجیت سنگھ جب اپنے پورے لاؤ لشکر کیساتھ سدھنوتی اور ملحقہ علاقہ جات پر حملہ آور ہونے کے لیئے آئے تو انہوں نے پہلے اپنے نمائندے ان پہاڑی قبائل، ڈھنڈ، سدھن اور ستی برادری کے پاس بھیجے اور حملہ نہ کرنے کی چند شرائط سامنے رکھیں ۔ ان پہاڑی قبائل کے پاس نہ وسائل تھے نہ ہی جدید ہتھیار ۔ انہوں نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے نمائندے راجہ دھیان سنگھ کیساتھ پونچھ جاگیر میں شمولیت کے لیئے حامی بھر لی ۔ اس دوران سدھن قبیلے کی نمائندگی جس شخص نے بطور سربراہ سدھن قبیلہ کی تھی ان کا نام تاریخ میں سردار شمس خان سدھن لکھا گیا ہے ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے بغیر خون خرابے کے ریاست کی توسیع اور تین جنگی قبائل کو خالصہ حکومت کے تابع کرنے پر خوشی کا اظہار کیا اور راجہ دھیان سنگھ کو یہ پہاڑی علاقہ جات پونچھ جاگیر میں شامل کر کے راجہ نامزد کردیا ۔ سکھ حکومت کا قانون تھا کہ وہ جس علاقہ کو فتح کرتے وہاں کے سربراہ یا اسکے بیٹوں کو اپنے ساتھ انتظامی امور یا فوج میں شامل کر کے لاہور دربار لے جاتے ۔ حکمران خاندان یا قبیلہ کے یہ لوگ سکھ حکمران اپنے پاس غیر محسوس طریقہ سے یرغمال بنا کر رکھتے تھے تاکہ حکمران خاندان یا قبیلہ کی جانب سے کسی قسم کی بغاوت نہ کی جائے ۔ قبائلی علاقوں کی فتح پر بھی یہی عمل کیا گیا ۔ راجہ دھیان سنگھ سردار شمس خان سدھن کے ثالثی عمل کے دوران ہی مداح ہوگئے تھے ۔ اس لیئے انہوں نے سدھن قبیلے کو تابع رکھنے کے لیئے سدھنوں کے سربراہ سردار شمس خان سدھن کو بطور گھڑ چڑھا سپاہی اپنے ذاتی گارڈ میں شامل کر لیا ۔ خالصہ دربار کے رواج کے مطابق سردار شمس خان سدھن کو راجہ دھیان سنگھ نے سونے کے کنگن بھی بطور تحفہ دیئے اور انہیں ایک بہترین جنگی گھوڑا عطا کر کے اپنے ساتھ لاہور لے آئے ۔

1832ء میں ڈھنڈ اور ستی برادری نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے راجہ گلاب سنگھ کو بغاوت کچلنے کے لیئے پہاڑی علاقہ جات میں بھیجا جس نے انتہائی بے دردی کے ساتھ ڈھنڈ اور ستی برادری کے بچوں ، عورتوں ، بزرگوں اور مردوں کا قتل عام کر کے بغاوت کو کچل ڈالا ۔ 1832ء کی اس بغاوت کے بعد راجہ گلاب سنگھ نے تمام پہاڑی قبیلوں پر مزید ٹیکس اور بوجھ ڈالنے کی تجویز دی تاکہ دوبارہ ایسی بغاوت نہ ہوسکے ۔ جس پر مہاراجہ رنجیت سنگھ نے راجہ دھیان سنگھ کو پونچھ جاگیر کے معاملات کو قابو کرنے کا حکم جاری کیا ۔ راجہ دھیان سنگھ نے جب دیکھا کہ مذید ٹیکس لگانے سے جاگیر کے معاملات بگڑ سکتے ہیں تو انہوں نے اپنے مشیروں سے مشاورت شروع کر دی ۔ اسی دورانانہوں نے سردار شمس خان کوبھی طلب کر کے ان سے رائے لی ۔ سردار شمس خان نے راجہ دھیان سنگھ کو مشورہ دیا کہ وہ مقامی لوگوں میں سے ہی دیوان مقرر کریں تاکہ مقامی لوگوں کی شکایات کا ازالہ ہوسکے ۔ راجہ دھیان سنگھ سردار شمس خان سدھن کی تجویز سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے سردار شمس خان سدھن سے پونچھ کے معاملات پر وقتاً فوقتاً مشاورت شروع کر دی ۔ جب انہیں سردار شمس خان سدھن کی نیک نیتی کا اندازہ ہوگیا تو انہوں نے انہیں پونچھ جاگیر سے متعلق معاملات پر اپنا مشیر نامزد کر لیا اور پونچھ کے دیوان دلباغ رائے کو ہدایات جاری کر دیں کہ کوئی بھی فیصلہ سردار شمس خان سدھن کے مشورے کے بغیر نہ کرے ۔

راجہ دھیان سنگھ کی پونچھ جاگیر پر انکے بڑے بھائی راجہ گلاب سنگھ کی نظریں جمی ہوئی تھیں ۔ وہ اسے کسی نہ کسی طریقے سی ہتھیانہ چاہتا تھا تاکہ وہ اسے جموں کے ساتھ منسلک کر کے ایک بڑی ریاست بنا سکے ۔ راجہ دھیان سنگھ بھی اس بات سے واقف تھے ۔ لیکن لاہور دربار میں بطور دیوان ذمہ داریاں ہونے کی وجہ سے وہ پونچھ جاگیر کی طرف توجہ نہیں دے پاتے تھے ۔ اسی لیئے انہوں نے سردار شمس خان سدھن کو پونچھ جاگیر کے معاملات پر اپنا مشیر بنایا تھا تاکہ وہ انکے مفادات کا تحفظ کر سکیں ۔ راجہ گلاب سنگھ کو دھیان سنگھ کا یہ فیصلہ انتہائی ناگوار گزرا تھا کیونکہ اس فیصلے کی بدولت اسکا متحدہ جموں ، کشمیر اور پونچھ پر مبنی ایک ریاست بنانے کا منصوبہ بری طرح سے اثر انداز ہو رہا تھا ۔ لہٰذا راجہ گلاب سنگھ نے سردار شمس خان سدھن کو راستے سے ہٹانے کے لیئے پونچھ کے ہندو دیوان دلباغ رائے کی معاونت لینا شروع کر دی ۔

دیوان دلباغ رائے نے راجہ گلاب سنگھ کی ہدایات پر پونچھ میں بتدریج مالیا بڑھانا شروع کردیا ۔ بلخصوص سدھن قبیلے پر مختلف اقسام کے ٹیکسز لگانے شروع کر دیئے ۔ سدھن اکثریتی علاقوں میں قلعوں کی تعمیرات شروع کروا دیں اور لوگوں کو مختلف طریقہ کار اختیار کر کر کے تنگ کرنا شروع کردیا ۔ اس سب کے پیچھے مقصد صرف اور صرف سدھن قبیلے کو بغاوت پر اکسا کر کچلنا تھا ۔ سردار شمس خان سدھن کے علم میں جب یہ بات آئی تو انہوں نے راجہ دھیان سنگھ کے ذریعے معاملات کو قابو کیا، ٹیکسز کو ختم کروایا اور اپنے قبیلے کے ذمہ داران کو ہمت اور صبر سے کام لینے کی تلقین کی ۔

سدھنوں اور ڈوگرہ سپاہیوں میں عموماً نوک جھونک جاری رہتی تھی ۔ لیکن دونوں اطراف سے کبھی بھی کوئی بات زیادہ بڑھائی نہیں گئی ۔ البتہ 1837ء کے شروع میں دیوان دلباغ رائے کی جانب سے اچانک ٹیکسز کی شرح میں بے جا اضافہ کردیا گیا ۔ اس کے ساتھ ہی ڈوگرہ فوج کی جانب سے لوگوں سے زبردستی مالیا وصول بھی کیا جانے لگا ۔ جو شخص مالیا نہ دے سکتا تھا اسے سر بازار دردناک اور ذلت آمیز سزائیں دی جاتی تھیں ۔ سردار شمس خان سدھن اس معاملے کو قابو کرنے کی کوشش کررہے تھے لیکن اس بار پشاور میں یوسفزئی سلطنت سے جاری جنگ کا سہارا لے کر دیوان دلباغ رائے نے تمام ٹیکسیز کا جواز پیش کردیا ۔ وہاں سدھنوتی میں عوام نے اس بات پر بغاوت کر دی کہ جب ایک بار ٹیکس ختم کر کے دوبارہ نہ لگانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی تو پھر دوبارہ ٹیکس کیوں لگائے گئے ہیں ۔ یہ تنازعہ بڑھتا گیا اور اس دوران متعدد لڑائیاں بھی ہوئیں ۔ لیکن حالات تب بگڑے جب سردار شمس خان سدھن کے بھتیجے سردار راج ولی خان سدھن، جسے راج بلی سدھن کہا جاتا تھا، اور اسکے ساتھیوں نے چند ڈوگرہ فوجیوں کو زندہ جلا دیا ۔ سردار شمس خان نے جب یہ خبر سنی تو وہ بنا بتائے لاہور سے پونچھ روانہ ہوگئے ۔ پونچھ میں انکی آمد پر دیوان دلباغ رائے نے یہ پیغام لاہور بھیجا کہ سردار شمس خان سدھن نے پونچھ کی بغاوت کی کمان سنبھال لی ہے ۔ دیوان دلباغ رائے کی غلط بیانی کا علم جب سردار شمس خان سدھن کو ہوا تو انہوں نے بھی لاہور پیغام بھیجا کہ وہ بغاوت کو ختم کرنے کے لیئے پونچھ آئے ہیں ۔ لیکن انکی بات پر توجہ نہ دی گئی اورانہیں زندہ یا مردہ لاہور دربار میں پیش کرنے کا حکم جاری کردیا گیا ۔ سردار شمس خان سدھن نے جب دیکھا کہ خالصہ دربار نے راجہ گلاب سنگھ کے منصوبے پر عمل شروع کردیا ہے، اور اب سوائے جنگ کے اور کوئی راستہ نہ بچا ہے، تو انہوں نے اپنے قبیلے پر محیط ایک منظم بغاوت کا آغاز کیا اور تمام تر قلعوں کو فتح کر لیا ۔

راجہ گلاب سنگھ کو جب پشاور میں اطلاع ملی کہ سردار شمس خان سدھن نے پونچھ میں بغاوت کر دی ہے تو وہ فوراََ اپنی فوج لے کر کہوٹہ میں آکر بیٹھ گیا ۔ کہوٹہ سے بیٹھ کر گلاب سنگھ نے سردار شمس خان کا ساتھ دینے والے دوسرے قبیلوں کے ذمہ داران کو خریدا ۔ کچھ کو پیسے دیئے اور کچھ کو زمینیں و اختیارات ۔ اس طرح اس نے سدھن قبیلے کو پہلے بلکل تنہا کیا اور پھر سیدھے سدھنوتی میں داخل ہوکر پلندری میں بچوں ، عورتوں ، مردوں اور بزرگوں کے سروں کا مینار بنایا ۔ منگ کے مقام پر گلاب سنگھ نے سردار سبز علی خان سدھن، سردار ملی خان سدھن اور دیگر قلعہ داران کہ زندہ کھالیں اتروا کر ان میں بھوسا بھروایا اور انہیں درختوں سے لٹکوا دیا ۔ بغاوت کے گڑھ سدھنوتی کو فتح کرنے کے بعد راجہ گلاب سنگھ اپنی کچھ فوج اور مشیران کیساتھ باغ چلا گیا ۔ جہاں پر اس نے پورے ایک مہینہ آرام کیا، ایک قلعہ بھی تعمیر کروایا اور ساتھ ساتھ پونچھ میں سردار شمس خان سدھن کی کھوج بھی جاری رکھی ۔ باغ میں راجہ گلاب سنگھ کی جان کو کوئی خطرہ نہ تھا کیونکہ باغ کی ملدیال برادری کے ڈوگرہ خاندان کے ساتھ گہرے تعلقات تھے اور انہوں نے سردار شمس خان سدھن کی بغاوت میں کسی قسم کا حصہ نہ لیا تھا ۔

سدھرون سے ایک مخبر نے راجہ گلاب سنگھ کو اطلاع بھیجی کے سردار شمس خان سدھن راجہ شیر باز خان سدھرونیہ کے علاقے میں روپوش ہے ۔ راجہ گلاب سنگھ نے راجہ شیر باز خان راٹھور کو پیغام بھیجا کہ وہ شمس خان سدھن کو اسکے حوالے کرے ورنہ وہ اسکا حال سبز علی خان اور ملی خان جیسا کر دے گا ۔ راجہ شیر باز خان راٹھور نے اپنی مکمل وفاداری اور حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے گلاب سنگھ سے فوجیں بھیج کر سردار شمس خان سدھن کو لے جانے کا کہا ۔ گلاب سنگھ نے اپنے بیٹے کی سربراہی میں فوج بھیجی جس نے سردار شمس خان سدھن، انکے بھتیجے راج ولی خان سدھن اور دیگر ساتھیوں کو شہید کر دیا اور انکے سر قلم کر کے گلاب سنگھ کی خدمت میں پیش کردیئے ۔ گلاب سنگھ نے سردار شمس خان سدھن اور انکے بھتیجے راج والی خان کے سرجب آدھی ٹیک پر لٹکوائے تب جاکر اسکا غصہ کچھ قابو میں آیا ۔ سردار شمس خان سدھن شہید کی بیوہ مسماۃ پھولاں بی بی اور انکے بچوں کو قتل کرنے کی ترغیب بھی گلاب سنگھ کو دی گئی لیکن اس نے اس بات کو رد کیا اور وہ سردار شمس خان سدھن شہید کی بیوہ اور بچے اپنے ساتھ جموں لے گیا جہاں اس نے انہیں خیری تحصیل رنبیر سنگھ پورہ میں رقبہ دیا اور آباد کیا جن کے ورثاء آج تک وہاں آباد ہیں ۔ ریاست پونچھ کے ایک عظیم مجاہد کا قصہ اس طرح اختتام پذیرہوا ۔

تاثرات و بحث
تاریخ اس بات کی واضح گواہی دیتی ہے کہ 1830ء میں راجہ دھیان سنگھ کی ملازمت میں سدھن قبیلے کو قابو میں رکھنے کے لیئے جس سردار شمس خان کا ذکر تمام تر غیر جانبدار اور مستند تاریخ دانوں نے اپنی کتب میں کیا ہے ان کا تعلق سدھن (سدوزئی) قبیلے سے ہی تھا ۔ سردار شمس خان سدھن شہید ہی وہ مجاہد ہیں جنہوں نے 1837 ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا اور اسکے جنرل راجہ گلاب سنگھ کا بھرپور مقابلہ کیا تھا ۔ ان کے اس اقدام کی وجہ سے انکے سدھن قبیلے کے بزرگوں ، مردوں ، عورتوں اور بچوں پر ظلم اور جبر کے پہاڑ توڑے گئے تھے ۔ تاریخ میں 1837 ء میں سدھن قبیلے کے علاوہ دوسرے کسی بھی قبیلے کے خلاف مہاراجہ گلاب سنگھ کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں کی گئی تھی ۔ مہاراجہ گلاب سنگھ اپنی فوجیں لے کر داخل ہی سدھنوتی (پلندری اور منگ) میں ہوا اور سدھن قبیلے کے خلاف جارحانہ کاروائی کی ۔ اگر سردار شمس خان سدھن شہید سدھن قبیلے سے نہ ہوتے تو مہاراجہ کیوں کر سدھنوتی پر حملہ آور ہوتا؟

تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ مہاراجہ گلاب سنگھ اور اسکی فوجوں نے سدھن اکثریتی علاقوں میں قتل و غارت کرنے کے بعد پورا ایک مہینہ باغ میں رہ کر آرام سے پونچھ میں سردار شمس خان سدھن شہید کی تلاش کی تھی اور اسکے ساتھ ہی وہاں رہ ایک قلعہ بھی تعمیر کروایا تھا ۔ باغ ملدیال برادری کا اکثریتی علاقہ ہے ۔ وہاں راجہ گلاب سنگھ اور اسکے سپاہیوں کا آرام اور سکون سے رہنا اور تعمیرات کرانا اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے کہ اس جنگ میں ملدیال برادری یا کسی بھی دوسری برادری کی جانب سے سدھن قبیلے کی کوئی معاونت نہ کی گئی تھی ۔ اگر گلاب سنگھ کو باغ میں جان کا خطرہ ہوتا تو کیا وہ وہاں پورا مہینہ آرام سے گزار کر تعمیراتی کام کرواتا؟ سید محمود آزاد نے اپنی کتاب تاریخ پونچھ میں اس بات کو بڑے مضحکہ خیز انداز میں چھپانے کی کوشش کی ہے بلکہ انہوں نے تو یہ بھی لکھ دیا کہ مہاراجہ گلاب سنگھ پر وہاں حملہ ہوا اور اس نے وہاں ملدیال برادری کے چند لوگوں کی کھالیں اتاریں ۔ اپنی مغالطہ آرائی میں سید محمود آزاد صاحب یہ بھول گئے کہ دیوان کرپا رام نے گلاب نامہ میں مہاراجہ گلاب سنگھ کی ایک ایک جنگ کا ذکر کیا ہوا ہے ۔ اور اس نے اس قسم کی کوئی بھی داستان وہاں نہیں لکھی ۔ نہ ہی یہ بات سچ ہے ۔ کیونکہ ڈوگرہ مصنف نرسنگ داس نرگس، اپنی تصنیف تاریخ ڈوگرہ دیس کے صفحہ نمبر 339 پر واضح لکھتے ہیں کہ، “یہ (ملدیال) قوم خالص زمیندار پیشہ (سے منسلک) ہے اور پونچھ کے ڈوگرہ راجگان کی وفادار رہی ہے۔” یہی وفاداری تھی جسکی وجہ سے مہاراجہ گلاب سنگھ آرام سے پورا مہینہ باغ میں رہا اور بے خوف و خطر اس نے سردار شمس خان سدھن شہید کیپونچھ میں کھوج لگائی ۔

سردار شمس خان سدھن شہید نے جو تاریخ رقم کی اسے کوئی جتنا بھی چاہے مٹا نہیں سکتا ۔ یہ کوشش سب سے پہلے ٹھاکر کاہن سنگھ نے اپنی کتاب تاریخ راجگان جموں و کشمیر میں کی تھی ۔ اس نے دیگوار ملدیالاں کے شمس الدین ملدیال کو سردار شمس خان سدھن شہید ظاہر کیا ۔ اس کے پاس ایسا دعویٰ کرنے کے لیئے کوئی مستند ثبوت نہیں تھا ۔ ٹھاکر کاہن سنگھ نے اپنی کتاب میں اور بھی کئی ایسی من گھڑت کہانیاں لکھی تھیں جن کو بعد میں اس نے خود بھی رد کردیا تھا ۔ منشی محمد الدین فوق صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ اقوام پونچھ میں ٹھاکر کاہن سنگھ کی اسی کتاب کا حوالہ دے کر نقل کرتے ہوئے سردار شمس خان سدھن شہید کو شمس الدین ملدیال لکھ دیا ہے ۔ انہوں نے اس موضوع پر خود کوئی تحقیق کرنے کی ذہمت محسوس نہیں کی تھی لیکن اپنی کتاب تاریخ اقوام پونچھ میں ٹھاکر کاہن سنگھ کی کتاب کے متعلق یہ رائے ضرور دی تھی کہ اس میں کئی غلط بیانیاں کی گئی ہیں ۔ ٹھاکر کاہن سنگھ اور منشی محمد دین فوق کی کتب شاءع ہونے کی دیر تھی کہ مغالطہ نویسوں نے 1700 ء کی دہائی میں آنے والے شمس الدین ملدیال کو بغیر تحقیق کیئے 1837 کی بغاوت کا مرکزی کردار لکھنا شروع کردیا ۔ اور اس طرح سدھن قبیلے کے سربراہ سردار شمس خان شہید کی تاریخ کو چوری کر کے مغالطہ نویسوں نے سب سے بھاری قیمت لگانے والے کو بیچنا شروع کر دیا ۔ پھر ہر دوسرے با اثر و دولتمند شخص نے جھوٹے شجرے بنوائے، فرضی کردار پیدا کیئے اور خود کو شمس الدین ملدیال کا رشتہ دار ثابت کرنے میں مشغول ہوگیا ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ سیاسی مفاد کے لیئے جعلسازوں نے اپنی جھوٹی کہانیوں کے ذریعے لوگوں کو انکی اصل تاریخ اور حسب و نسب سے بھی دور کردیا ۔ ملدیال قوم کی اپنی ایک تاریخ موجود ہے ۔ 1700 ء کی دہائی کے شمس الدین ملدیال کا بڑا نام تھا جسے محفوظ کرنے کے بجائے جان بوجھ کر ضائع کیا گیا اور چھپایا گیا تاکہ اس کی نسل و ورثاء کہیں سیاسی طور پر آگے نہ آجائیں ۔ لیکن تاریخ ہمیشہ زندہ رہتی ہے ۔ مغالطہ نویس کتابوں سے شمس الدین ملدیال کا نام مٹانے میں کامیاب ہوئے لیکن اسکی قبر کو چھپا نہ سکے ۔ شمس الدین ملدیال کی قبر کی موجودگی ہی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ ایک علیحدہ شخصیت تھا ۔ جس کی وفات اسکے اپنے علاقے میں ہوئی، جہاں اسکا جنازہ ادا کیا گیا اور اسکے جسم کو دفنایا گیا ۔ جبکہ سردار شمس خان سدھن کو سدھرون میں ہی شہید کر دیا گیا تھا اور ان کا اور انکے بھتیجے راج والی سدھن شہید کا سر قلم کر کے گلاب سنگھ نے آدھی ٹیک پر لٹکوا دیا تھا۔ یہ بات سوچنا کہ اس دور میں گلاب سنگھ نے ،ایک باغی کو، جس کا سر کاٹ کروہ عبرت کے لیئے ایک مشہور مقام پر لٹکوا رہا ہے ، کوئی عزت دار اختتام بخشا ہوگا سوائے خواہش کے کچھ بھی نہیں ہے ۔ کیونکہ گلاب سنگھ نے تمام باغیوں کے جسموں کے ٹکڑے کروا کر مختلف مقامات پر لٹکوا دیئے تھے ۔ اس لیئے سردار شمس خان سدھن شہید ،راجولی خان سدھن شہید اور دیگر باغی سرداران سے جو بھی قبور منسلک کی جاتی ہیں وہ سب بغیر مستند تحقیق اور قبر کشائی کے تسلیم کرنا بے بنیاد عمل ہے۔ کیونکہ ان شہداء کے مبارک جسم پونچھ کی سرزمین کے ساتھ ایک ہوگئے ہیں جن کا اب کوئی نام و نشان باقی نہیں ہے ۔

سردار شمس خان شہید سدھن قبیلہ کے سربراہ اور سردار تھے ۔ 1830ء میں انہیں ہی راجہ دھیان سنگھ اپنے ساتھ لاہور لے کر گیا تھا اور انہیں ہی اپنا مشیر بنایا تھا ۔ سردار شمس خان سدھن نے ہی 1837ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف بغاوت کی تھی اور وہ ہی ریاست پونچھ کے باغی حکمران تھے ۔ یہ وہ حقائق ہیں جو اس دور کی انٹیلی جنس رپورٹ اور مصنفین نے اپنی درج ذیل کتب میں شائع کیئے ہیں:

Intelligence from Kashmir, 30 August 1837, For. Pol. 20 Oct. 1837, No. 62.

 The Reigning Family of Lahore (1847) – G.C.Smyth (Pages 205 – 212)

 Four Reports Made During Years (1862-1865) – Alexander Cunningham (Page 13)

 The Punjab Chiefs (1865) – Lepel H. Griffin (Pages 594-595)

ابھی میں باقی کی کتب کا حوالہ نہیں دے رہا ۔ صرف ان کتب کا لکھ رہا ہوں جو اس دور میں لکھی گئی ہیں ۔ ایک کتاب محترم صدیق چغتائی صاحب نے بھی لکھی ہے ۔ مجھے اکثردوست اسی کتاب کے حوالے دے کر شمس خان سدھن کے ملدیال ہونے پر قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس کتاب کا جواب متعدد مصنفین نے مستند تاریخی حوالاجات کے ساتھ دے دیا ہے ۔ اب تو یہ بات بھی زد عام ہے کہ صدیق چغتائی صاحب نے یہ کتاب کن صاحب کے کہنے پر لکھی اور کیوں لکھی ۔ میں اس پر اس لیئے زیادہ نہیں لکھتا کیونکہ صدیق صاحب میرے محسن بھی ہیں ۔ البتہ میں تمام دوستوں کی توجہ صدیق صاحب کی کتاب کے صفحات نمبر 210-211 کی طرف لیجانا چاہتا ہوں جہاں پر انہوں نے اپنے خیالی شمس خان کا ایک شجرہ دیا ہوا ہے ۔ میں نے بھی باقی حضرات کی طرح کتب میں ہی پڑھا ہے کہ ملدیال برادری نسلاََ مغل ہیں اور انکے جد امجد ایک مرزا مولود بیگ نامی شخص ہیں ۔ جن کے آگے چار فرزند بتائے جاتے ہیں ، سمندر خان، دوتار خان، اکبر خان اور فرن خان ۔ صدیق چغتائی صاحب کے دیئے گئے شجرے میں آپ کہیں سے مرزا مولود بیگ کا نام ڈھونڈ کر مجھے بھیج دیں ۔ کیونکہ مجھے تو انکا نام کہیں نہیں ملا البتہ مجھے بڑی حیرانگی ہوئی کہ چغتائی صاحب کا ایجاد کردہ شمس خان مغل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک راٹھور، راجہ رستم خان راٹھور والی پونچھ، کا بیٹا بھی ہے ۔ صدیق صاحب نے ایک ہی وقت میں سدھنوں اور راٹھووروں کی تاریخ کو جس طرح سے چرا کر اپنی کتاب مرتب کی ہے اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔

کسی دوسرے کی تاریخ چرانے والوں اور اپنا حسب نسب تبدیل کرنے والوں پر منشی محمد دین فوق صاحب نے اپنی کتاب تاریخ اقوام پونچھ میں شدید تنقید کی ہے۔ ایسے لوگوں کے متعلق انہوں نے درج بالا کتاب کے دیباچہ، صفحہ نمبر 8، پر جو لکھا ہے میں وہ من و عن یہاں لکھ دیتا ہوں تاکہ مغالطہ نویسوں کو انکا مقام سمجھ آسکے۔ فوق صاحب لکھتے ہیں کہ؛

“حسب و نسب کو تبدیل کرنے اور اپنی اصلی ذات کو چھپانے اور اپنے خون کو اوروں کے خون میں ملا کر ناخلف بننے والوں کو کاش ارشادات نبوی کا بھی کچھ علم ہوتا۔ جن کا کچھ خلاصہ ناظرین کی آگاہی کے لیئے یہاں درج کیا جاتا ہے۔ حضرت سعد کہتے ہیں۔ میں نے حضرت سرور عالم صلعم سے سنا ہے۔ کہ جو شخص اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی اولاد بنے۔ اور جانتا ہو کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے۔ تو اس پر جنت حرام ہے۔

حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اکرم صلعم نے تم اپنے باپ دادوں سے نہ پھرو۔ پس جو کوئی اپنے باپ دادوں سے پھرا۔ اس نے کفر کیا۔ اسی طرح ایک اور مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو اپنے نسب کو کسی غیر شخص سے ملا دے۔”

ہمیں اب اپنی نئی نسل کو پونچھ اور جموں کشمیر کی اصل اور حقیقی تاریخ پڑھانے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں تاریخ کے ہر کردار کی قربانی اور جدوجہد کو لوگوں کے سامنے لانا ہوگا ۔ ورنہ مغالطہ نویس اپنی جیبیں بھرنے کے لیئے تاریخ چوری کر کے منہ بولا دام لگانے والوں کو بیچتے رہیں گے ۔ اور ہماری آنے والی نسلیں اصل تاریخ سے محروم ہوجائیں گی ۔ یہ کام ہر بچے، جوان اور بزرگ کو قومی فریضہ سمجھ کر کرنا ہوگا ۔ ورنہ مجھے اس بات کا خوف ہے کہ دشمن ملک اس ہائبرڈ وار کے ذریعہ ہمارے لوگوں کی تاریخ بدل کر ہم پر حاوی ہوجائے گا۔