سرکار بنام سردار خالد ابراہیم خان | توہین عدالت کیس کی سماعت

نیوزڈیسک | مظفرآباد

سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں آج ممبر اسمبلی اور سربراہ جموں کشمیر پیپلز پارٹی سردار خالد ابراہیم خان صاحب کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی گئی۔

اطلاعات کے مطابق سردار خالد ابراہیم خان کی اسمبلی فلور پر ججز تقرری کے خلاف کی جانے والی تقریر پر آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ کی جانب سے لیئے جانے والے ازخود نوٹس پر سپریم کورٹ نے اسپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر سے رائے مانگی ہے اور تب رک کے لیئے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کو ملتوی کردیا ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سردار خالد ابراہیم خان کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنسز اور بیانات پر دائر کی جانے والی مختلف درخواستوں کی سماعت 11 اور 12 اکتوبر تک شہادتوں کے لیئے ملتوی کر دی گئی ہے۔

چیف جسٹس آزاد کشمیر سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے انکے بارے میں دی جانے والی رائے کے متعلق بھی کافی فکرمند نظر آئے۔ انہوں نے گزشتہ تاریخ پر پولیس سے سوشل میڈیا پر انکے خلاف دی جانے والی رائے اور انہیں شائع کرنے والے اخبارات کی فہرست بھی مانگی تھی جو پولیس نے عدالت کو مہیا کردی ہے۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر اور پاکستان کے آئینی ماہرین نے سپریم کورٹ آزاد کشمیر کی جانب سے ازخود نوٹس کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آزاد کشمیر کے آئین میں سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس لینے اور اسمبلی پر کی جانے والی تقاریر پر قانونی کاروائی کرنے کا کوئی قانونی یا آئینی حق حاصل نہ ہے۔