تاریخی بے خبری کے مضر اثرات

از قلم صابر حسین صابر

ذی وقار ارباب اختیار و ارباب فکر و دانش میں نہایت ادب کے ساتھ آپ کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر کے ایم اے تاریخ کے نصاب میں نادر شاہ افشار کے نسبی تعلق کو درانی خاندان سے جوڑا گیا ہے جو درست نہیں۔ اس غلطی کا ارتکاب کرنے والوں میں فیروز سنز اردو انساٸیکلو پیڈیا بھی شامل ہے۔ حالانکہ قاموس (انساٸیکلوپیڈیا ) ایک انتہاٸی معتبر کتاب ہوتی ہے۔ بدیں وجہ اس میں اس قسم کی غلطیوں کا وجود نا قابل برداشت ہوتا ہے۔ اردو انساٸیکلو پیڈیا کے مقالہ نگار نے غیر حاضر دماغی یا فراموش کاری کے کسی لمحہ میں یہ نسبت نادر شاہ افشار سے منسوب کر دی۔ اس طرح وہاں سے یہ غلطی تاریخ کی ان کتابوں میں منتقل ہو گٸی جن سے اعلی تعلیم کے آخری درجے کے طالب علم استفادہ کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ایرانیوں نے جب اپنے بادشاہ نادر شاہ افشار کو قتل کیا تو اس کے بعد اس کا ایک افغانی جرنیل احمد خان جس نے بعد میں احمد شاہ ابدالی کے نام سے شہرت پاٸی اپنے افغان فوجی دستوں کو لے کر قندھار چلا گیا۔ اس وقت قندھار میں ہر افغان اپنی افغان حکومت دیکھنے کا آرزو مند تھا۔ تمام بڑے قباٸل کے سردار بادشاہی کے امیدوار تھے لیکن احمد شاہ أبدالی ان امیدواروں میں شامل نہ تھا۔ حصول انتخاب کے لیے آٹھ دن تک جرگہ ہوتا رہا۔ لیکن کوٸی نتیجہ سامنے نہ آ سکا۔ البتہ افغان سرداروں کی تلواریں بے نیام ہو گٸیں۔ جب خونریزی کے بادل منڈلانے لگے تب ایک درویش جو صابر بابا کے نام سے مشہور تھے نے مداخلت کرتے ہوٸے کہا اے لوگو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے مت بنو ۔ اللہ تعالی نے احمد خان کو تم سب سے با عظمت آدمی پیدا کیا ہے۔ مشیّت الہی کا تقاضا ہے کہ تم اسے اپنا حکمران تسلیم کر لو۔ چنانچہ صابر بابا کی تجویز پر حاجی جمال خان محمد زٸی جو سب سے مضبوط امیدوار تھا نے احمد شاہ ابدالی کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا۔ یوں تمام قباٸل نے اجتماعی طور پر احمد شاہ ابدالی کو اپنا بادشاہ منتخب کر دیا۔ بعد ازاں صابر بابا نے زمین پر ایک چھوٹا سا چبوترہ بنایا احمد شاہ کا ہاتھ پکڑ کر اس پر بیٹھا کر کہا یہ تمہاری مملکت کا تخت شاہی ہے۔ تم بادشاہ درّ دوراں ہو۔ یعنی زمانے کے موتی pearl of the age ہو۔

 نو منتخب بادشاہ نے درویش بابا کی اجازت سے اس خطاب میں یوں ترمیم کی کہ درّ دوراں کو درّ درّاں یعنی موتیوں سے چنا گیا ایک موتی pearl of the pearls کر لیا تاکہ اسکے قبیلہ کی تکریم بڑھے۔ یہ واقعہ 1747ء کا ہے اس خطاب کی نسبت سے احمد شاہ ابدالی کی قوم درانی کہلانے لگی۔ جبکہ نادر شاہ افشار اس سے پہلے مر چکا تھا۔ مجھے استبول میں نادر شاہ کے مدفن پر جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ ان کی لوح مزار پر ان کی قباٸیلی نسبت افشاردرج ہے درانی نہیں۔عہد گزشتہ میں بادشاہوں کی قباٸیلی نسبت موت وزیست دونوں صورتوں میں بہت اہم ہوا کرتی تھی اور ان کے مرقد کے الواح پر اس کااندراج ضروری سمجھا جاتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ نادر شاہ کی موت تک درانی نام کا کوٸی شاہی خانوادہ اس سارے عالم میں موجود نہ تھا۔ اس سلسلے میں اگر مزید تفصیل درکار ہے تو میری تصنیف سمیط سدوزٸی کا آخری باب ملاحظہ فرماٸیے۔ مجھے امید ہے کہ ارباب اختیار میری گزارشات کی روشنی میں ایم اے تاریخ کے نصاب میں شامل ہونے والی غلطی کو درست کروانے کے احکامات جاری فرماٸیں گے۔