ٹیسلا کی نجکاری نہیں کی جائے گی | ایلون مسک

نیوزڈیسک | ڈیلی کشمیر پیج
ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے جمعہ کو کہا کہ ان کی کمپنی پبلک لمیٹیڈ کمپنی کہ طور پر تجارت جاری رکھے گی، انہوں نے یہ وضاحت اپنی ٹویٹ کے ہفتوں بعد کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی کمپنی ٹیسلا کو پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی بنانے لگے ہیں.

مسک نے ٹیسلا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے جمعہ کو ملاقات کی اور ان کو یہ بتایا ک ٹیسلا کے لئے پبلک لیمیٹڈ کمپنی رہنا بہتر ہے. ٹیسلا کے بورڈ نےبھی مسک کی بات سے اتفاق کیا.

مسک نے 7 اگست کو ٹویٹر پر ٹیسلا کی نجکاری کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا.انہوں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ 420 $ فی شیئر پر ٹیسلا کو پارئیوٹائیز کرنے کا سوچ رہے ہیں.مسک کی اس ٹویٹ نے ٹیسلا کو کافی نقصان پہنچایا.

مسک کے متنازعہ اعلان کے بعد ان کو سخت اور وسیع پیمانے پر جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑا. ان پر ایک الزام یہ بھی تھا کہ انہوں نے نجکاری کے لیئے فنڈز بھی اکتھے کر لیئے ہیں. مسک کی اس متنازعی ٹویٹ پر امریکی سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے بھی مسک کو وضاحت دینے کے لیئے طلب کر لیا جس کی وجہ سے ٹیسلا کے شیئر تیزی سے نیچے گرتے نظر آئے. عام طور پر نجکاری کرنے سے پہلے اتنی بڑی کمپنیز ریگولیٹری اداروں کو تفصیلی وضاحت دیتی ہیں.

مسک نے جمعہ کو ٹیسلا کے شیئر ہولڈرز اور فائنینشل مشیروں سے بات چیت کے بعد واضح کیا کہ انہوں نے نجکاری کے بارے میں سوچا تھا اور لیکن اس میں بہت وقت ضائع ہونے کا خدشی ہے اورکمپنی اپنے اصلی مقصد سے دور ہوجائے گی اس لیئے اس معاملے پر کوئی پیشرفت نہیں کی گئی. مسک نے لکھا کہ کمپنی کو ماڈل 3 کی نمائش کرنے اوراسے منافع بخش بنانے پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے. ہم پائیدار توانائی کو بڑھانے کے اپنے مشن کو حاصل نہیں کریں گے جب تک ہم مالی طور پر پائیدار نہیں ہوں گے.”

ماڈل 3 ٹیسلا کی 35،000 $ کی ایک گاڑی ہے جس نے ابھی تک کمپنی کو کوئی منافع نہیں دیا.لیکن مسک مطمعین ہیں کہ اس کا نیا ماڈل سپر ہٹ ہوگا.

“مشکل اور دردناک” سال

مسک نے نیو یارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سال انکے لیئے کافی مشکل گزر رہا ہے. وہ ہر وقت کام میں مشغول رہتے ہیں جسکی وجہ سے وہ کافی زیاداہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ انکے کام کی وجہ سے وہ اپنے بھائی کی شادی بھی مِس کرنے لگے تھے. انہوں نے کہ انکی نجکاری کی ٹویٹ شفافیت کے اصول کو مدِنظر کرھتے ہوئے کی گئی تھی کیونکہ اس وقت وہ سعودیہ کے سوویرن ویلتھ فنڈوالوں سے بات چیت کر رہے تھے.انہوں نے کہا کہ انکی کمپنی میں انکا کام انکی زندگی ہے لیکن اس کام کی واجہ سے وہ کافی چیزوں کی قربانی دے چکے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں