ترکی نے امریکی اشیاء کا بائکاٹ کردیا

نیوز ڈیسک |
ترکی کے صدر طیب اردگان کی جانب سے امریکی الیکٹرانکس کی خرید و فروخت کے ممکنہ بائکاٹ کا اعلان کیا گیا ہے. ترکی کا یہ سخت ردعمل حال ہی میں امریکہ کی طرف سے ترکی پر لگائی جانے والی پابندیوں کے نتیجے میں آیا. ترکی اور امریکہ کے درمیان معاملات میں کشیدگی تب پیدا ہوئی جب ترکی نے ایک امریکی ایونجیلیکل پادری کوجاسوسی کے الزام میں گرفتار اور قید کیا. جس پر امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور ترکی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور نتیجتاََ ترکی پر معاشی پابندیاں عائد کردیں. ترک صدر کا کہنا تھا کہ وہ امریکی الیکٹرانکس کا بائکاٹ کریں گے جن میں دنیا کے سب سے بڑے الیکٹرانک برانڈ ایپل کا نام سرِفہرست ہے.
ترک صدر کا کہنا تھا کہ معاشی پابندیاں ترکی کیخالاف امریکی سازش کو بےنقاب کرتی ہیں. امریکہ نے فوجی، خارجی اور سیاسی طور پر ترکی کو پہلے بھی کمزور کرنا چاہا ہے. دوسری طرف امریکی چارج ڈی افیئرز، جیفری ہوونیئر، کا کہنا تھا کہ ترکی میں قید امریکی پادری اور دیگر امریکی باشندوں کو جلد از جلد رہا کیا جائے اور انکے مقدمات کا انصاف پر فیصلہ کیا جائے.
ترکی اور امریکہ کے اس تنازعہ میں روس کی حکومت نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ترکی کیساتھ ہمدردی اور یکجہتی ظاہر کی. روسی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ترکی کیخلاف امریکہ کی لگائی گئی پابندیاں غیرقانونی ہیں اور اگر امریکہ دنیا میں اپنا مقام قائم رکھنا چاہتا ہے تو اسے قوموں کو ہراساں کرنے کا کلچر ختم کرنا ہوگا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں